مسلمان کولمبس سے پہلے امریکا دریافت کر چکے تھے
اندلس میں مسلمانوں کے آخری قلعے غرناطہ کاسقوط 1492ء میں ہوا عیسائی عدالتوں کااحتساب شروع ہونے کے کچھ عرصہ پہلے تفتیش وتشدد سے بچنے کے لئے بے شمار مسلمان امریکہ اوراس خطے کے دوسرے ممالک کیطرف چلے گئے پاپھرجا ن اورعزت وآبروبچانے کے لئے انہیں کیتھولک عیسائی بننا پڑا ۔کم ازکم دودستاویزات امریکہ میں950ء سے قبل مسلمانوں کی موجودگی ثابت کرتی ہیں ۔1539ء میں شاہ سپین چارلس پنجم نے فرمان جاری کیاتھا کہ اگر مسلمان آگ میں زندہ جلانے سے بچناچاہتے ہیں توجزائرغرب الہند کی طرف ہجرت کریں یاپھر عیسائی بن جائیں ۔1543ء میںاس فرمان کی توثیق کی گئی کہ سپین کے زیر تسلط سمندر پارعلاقوں سے بھی مسلمانو ں کونکال دیا جائے ۔کولمبس سے پہلے مسلمانوں کے امریکہ پہنچے کے کئی تاریخی حوالے بھی ملتے ہیں جن میں سے چندیہ ہیں ۔
تاریخی حوالے
1۔ مسلمان مورخ اورجغرافیہ دان ابوحسن علی ابن الحسن المسودی 871تا957ء نے اپنی کتاب ،مروج الذھب ومعدن الجواہر ، میںلکھا ہے کہ اندلس کے مسلمان خلیفہ عبداللہ بن محمد 888 ء تا912)کے دورمیں قرطبہ کاایک مسلمان جہاز راں خشخاش ابن سعید ابن اسود اندلسی بندرگاہ ڈیلبا(پالوس) سے 889ء میں روانہ ہوا ء بحرہ اوقیانوس پارکر کے نامعلوم خطے پہنچا اورعجیب وغریب مال ودولت کے ساتھ لوٹا ۔المسودی نے جودنیا کانقشہ بنایا اس میں اس نے بحرظلمات (بحر اوقیانوس ) میںبہت بڑے علاقے کو نامعلوم سرزمین لکھا ہے۔
2۔ایک مسلمان مورخ ابوبکر ابن عمر لکھتاہے ،اندلس کے خلیفہ ہشام ثانی کے دور میں غرناطہ کاایک مسلمان جہازراں ابن فرخ فروری 999ء میں بحراوقیانوس میں سفر کرتا ہوا گینڈو(گریٹ کناری جزائر ) اترااور وہاں کے حکمران سے ملاقات کی ۔اس نے پھر مغرب کی طرف اپنا سفرجاری رکھا اوردوجزائر دیکھے ۔اس نے ان جزائر کے نام کیپر یریا اورپلوٹینیا رکھے ،وہ مئی 999ء میں واپس اندلس پہنچا ۔
3۔کولمبس سپین کی بندرگاہ پالوس سے روانہ ہوا ،تو راستے میں ایک جزیرے غومیراپراترا ۔یہ اس لفظ کی اصل عربی ہے جواس زمانے میںکناری جزائر کانام تھا۔ اس جزیرے میںوہ جزیرے کے سربراہ کی لڑکی( بیٹر بوبادیلا) کی محبت میں گرفتارہوگیا ۔اس لڑکی کاخاندانی نام بوباد یلا دراصل عربی لفظ عبداللہ سے ماخوذ تھا ۔12اکتوبر 1492ء کولمبس بہااس میں ایک چھوٹے سے جزیرے پراترا جسے وہاں کے لوگ غواناحی عربی الفاظ اخوان اورحی کامجموعہ ہے ۔غوآنا ہے کے معنی ہیں ’’ برادر ‘‘ اورحی ایک عربی نام ہے یعنی جزیرے کااصل نام ’’ حی برادر ‘‘ تھا ۔
4۔ہارورڈ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والاایک معروف امریکی مورخ اورماہر لسانیات لیوویزے نے اپنی کتاب’’افریقہ اینڈ دی ڈسکوری آف امریکہ ‘‘ ( 1920 ء)میںلکھا ہے کہ کولمبس نئی دنیا میں مینڈنکا (مغربی افریقہ کے حبشی قبائل ) کے وجود سے آگاہ تھا ۔مغربی افریقہ کے کہ مسلمان پورے کیریبیٗن ،وسطی ،جنوبی اورشمالی امریکہ کے علاقوں میں پھیلے ہوئے تھے ۔ان میںکینیڈا کے علاقے بھی شامل تھے ۔یہاں مسلمان نہ صرف تجارت کرتے بلکہ عروقیوئس اورالگونقو ئن نامی ریڈ انڈین قبائل میںشادیاں بھی کرتے تھے۔
جغرافیائی شہاد تیں
1۔مشہور مسلم جغرافیہ داں نقشہ نویس الشریف الادریسی (1099ء1166 ء)نے اپنی کتاب میںلکھا ہے کہ کچھ عرصہ قبل شمالی افریقہ کے ملاحوں کے ایک گروہ نے لزبن (پرتگال)سے بحر ظلمات میں سفر کیا۔ وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ اس سمندر میں کیا کیا ہے اوراس کی حدود کہاں ختم ہوتی ہیں ۔بالآخر وہ ایک جزیرے پرپہنچے جہاں انسان بھی تھے اور زراعت بھی ۔
2۔مسلمانوں کوحوالہ جاتی کتب میں مراکشی جہاز راں شیخ زین الدین بن فضل کے بحراوقیانوس میں سفر کے دستایزی ثبوت ملتے ہیں ۔شاہ ابویعقوب سیدی یوسف (دورحکومت1286ء 1037ء) کے دور حکومت میں اس نے طرفایا (جنوبی مراکش ) سے سفر کاآغاز کیاور1291ء ) میںبحرکیر یبیئن کے گرین آئی لینڈ میںاترا۔اس سفر کی تفصیلات اسلامی حوالہ جاتی کتب میںپائی جاتی ہیں اورمسلم دانشور اس سے آگاہ ہیں ۔
3۔مسلمان مورخ شہاب الدین ابوالعباس احمد بن فضل العمری (1300ء 1338)نے اپنی کتاب ’’مسالک البصارفی ممالک الامسار ‘‘ میں بحرظلمات (بحر اوقیانوس )علاقوں کی جغرافیائی تفصیل دی ہے۔
4۔سلطان مانسو کنکن موسٰی مغربی افریقہ اسلامی سلطنت مائی کامعروف حکمران تھا ۔1324ء میں جب اس نے حج کاسفر کیا تو قاہرہ میں محققین کوبتایا کہ اس کے بھائی سلطان ابوبکر اول (دورحکومت 1285ء1312)نے بحراوقیانوس میں دوبحری سفر کئے تھے ۔جب دوسرے سفر سے وہ نہیں لوٹا تو 1312ء میں موسیٰ نے سلطنت کی ذمہ داری سنبھال لی۔
5۔کولمبس سمیت اندلس اورپرتگال کے اولین مہم جو مسلمانو ں کی فراہم کی گئی بحری اورجغرافیائی معلومات کے ذریعے ہی بحراوقیانوس 2400کلومیٹر طویل سفر کرنے کے قابل ہوئے تھے۔ یہ معلومات انہیں مسلمان تاجروں کے بنائے ہوئے نقشوں اورالمسعودی (871ء تا947ء) کی کتاب ’’اخبارالزمان ‘‘ (دنیاکی تاریخ ) سے ملی تھیں ۔یہ بھی حقیقت ہے کہ کولمبس کے بحراوقیانوس کے پہلے سفر میںدو مسلمان کپتان بھی عملے کے رکن تھے جوبحری سفر کے ماہر تھے۔ انہوں نے کولمبس کی بحری مہمات کومنظم کرنے میںبڑی سرگرمی دکھائی تھی ۔
عربی کتبے
1۔ماہرین بشریات نے ثابت کیا ہے کہ سلطان مانسو موسٰی کی ہدایت پرمینڈینکا قبائل نے مسی سیپی اوردوسرے دریائوں میں سفر کرتے ہوئے شمالی امریکہ کے کئی علاقے دریافت کئے ۔
2۔کولمبس نے اپنی تحریروں میں اعتراف کیاہے ک جب اس کاجہاز کیوبا کے شمالی مشرقی ساحل پرگبار ا کے نزدیک سفر کررہا تھا تواس نے پہاڑی کی چوٹی پرخوبصورت مسجد دیکھی ۔یادر ہے کیوباء میکسیکو ،ٹیکساس اورنیوادامیں مساجد اورمیناروں کے کھنڈروں اورقرآن آیات کے نقش ملے ہیں۔
3۔دوسرے بحری سفر کے دوران اسپانولا (ہیٹی )کے ریڈ انڈینز نے کولمبس کوبتایا کہ اس کی آمد سے قبل سیاہ فام لوگ (افریقی مسلمان ) جزیرے پرآئے تھے ثبوت کے طورپر انہوں نے ان کے نیزے اوربھالے پیش کئے ۔ان ہتھیاروں پرایک زرد رنگ کی دھات جسے گنین کہتے تھے چڑھی ہوئی تھی ۔یہ لفظ افریقی زبان کاہے جس کے معنی ہیں ’’سوناملی دھات‘‘۔
1498-4ء میں اپنے تیسرے بحری سفرکے دوران کولمبس ٹرینی ڈاڈاترا ۔ بعد میں اس نے براعظم جنوبی امریکہ کانظارہ کیا جہاں اس کے کچھ جہاز ان ساحلوں کے ساتھ ساتھ آگے تک گئے ۔۔۔انہوں نے مقامی لوگوں کے پاس سوتی رنگداررومال دیکھے جومخصوص کپڑے کے تھے ۔یہ کپڑا اندلس اورشمالی افریقہ کے مسلمان ،مراکش ،سپین اورپرتگال میںمغربی افریقہ سے درآمد کرتے تھے ۔اسی سفر میںکولمبس کویہ دیکھ کربڑا تعجب ہوا شادی شدہ عورتیں پردہ دارلباس پہنتی ہیں جودراصل عربوں کے ذریعے یہاں پہنچا ۔
ہارورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر بیری فل نے اپنی کتاب ’’ساگا امریکہ 1980ء میںاس بات کے ثبوت میں کئی سائنسی شہادتیں پیش کی ہیں شمالی اورمغربی افریقہ کے مسلمان کولمبس سے کئی صدیاں پہلے امریکہ پہنچے تھے ۔ڈاکٹر بیری نے امریکہ کے کئی علاقوں ،مثلاویلی آف فائر ،الن سپر نگز ،لوگو مارسینو ،کینیون واشوئے اورہکی سن سمٹ پاس ، میساورڈے ،نیومیکسیکو کی ممبر ویلی اورانڈیانا کے پٹرکینو ئے میں 700 ء تا 800میں تعمیر کردہ مسلم سکولوں کے آثار دریافت کئے ہیں ۔اس نے مغربی امریکہ میں چٹانوں اورپتھروں پرکنندہ اسباق ،تصاویر اورنقشے دیکھے جواس علاقے میں قائم نظا م تعلیم کوظاہرکرتے تھے دونوں قسم یعنی ابتدائی اوراعلیٰ سطح کاتھا ۔
تعلیمی زبان شمالی افریقہ کی عربی زبان تھی جوپرانے کوفی عربی میںلکھی ہوئی تھی ۔نصاب تعلیم میں لکھنا ،پڑھنا ،حساب ،مذہب ،تاریخ ،جغرافیہ ،علم ریاضی ،علم جہاز رانی اور فلکیات وغیرہ شامل تھے ۔ قدیم فن کے بے شمار نمونوں کے مطالعہ سے انکشاف ہواکہ سنگ تراشی کے کئی نمونوں میں عربی خصوصیات ہیں ۔دیواری تصاویر ،نقش ونگار اورسکوں پرہلال کے نقش بھی نمایاں ہیں ۔اس کے علاوہ رسوم ورواج کامطالعہ بھی شہادت دیتاہے کہ مسلمان صدیوں پہلے اس علاقے میں آئے تھے ۔شمالی امریکہ میں آنے والے مسلمانوں کی اولاد آج ریڈ انڈینزکے مختلف قبائل مثلاعرو قیوئس ،الکنقوئن ،اناسازی ، ہو ہو کم اوراولمک باشندوں میں جذب ہوچکی ہے۔
6۔امریکہ اورکینیڈا میں 565جگہوں (دیہات،قصبوں ،شہروں ،پہاڑوں ،ندیوں ،دریائوں وغیرہ) کے نام ،اسلامی اورعربی اسماء والفاظ سے ماخوذ ہیں ۔امریکہ میں ایسے 484اور کینیڈامیں 81نام ہیں ۔ ان جگہوں کے نام کولمبس سے پہلے یہاں کے اصل باشندوں نے رکھے تھے۔ ان میں سے بعض نام مسلمانوں کے نزدیک مقدس ہیں ۔ مثلاانڈیا نا میں ایک گاؤں کانام مکہ ہے ۔واشنگٹن میں ریڈ انڈین قبیلہ مکہ ، مدینہ 2100(اداہو) مدینہ 8500(نیویارک ) مدینہ 1200001100(اوہیو) وغیرہ وغیرہ ۔ریڈانڈین قبائل کے ناموں کے بغور مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کے کئی نام عربی سے ماخوذ ہیں مثلااپاچی ،ہو یا، کری ، اراوالک ،لانی ،زمرلو، مہاوروغیرہ ۔.